نئی دہلی،30؍ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )مرکزی دیہی ترقیات ، پینے کے پانی اور پنچایتی راج کے وزیر نریندر تومر نے کہا کہ 2؍اکتوبر تک ایک لاکھ گاؤں کھلے میں قضائے حاجت سے آزاد ہو جائیں گے اور رواں مالی سال کے دوران 40ضلعوں کو یہ درجہ حاصل ہو جائے گا۔وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے ہندوستان صاف صفائی کانفرنس کا افتتاح کرنے کے بعد تومر نے کہا کہ عالمی صفائی کوریج حاصل کرنے کی کوششوں میں تیزی لانے اور صاف صفائی پر توجہ دینے کے لیے وزیر اعظم مودی نے 15؍اگست 2014کو لال قلعہ کی فصیل سے اپنے تاریخی خطاب کے بعد 2؍اکتوبر 2014کو سوچھ بھارت مشن کا آغاز کیا تھا۔تومر نے کہا کہ مرکزی حکومت، ریاستی حکومتیں، میونسپل کارپوریشن ، پنچایتی راج کے ادارے، غیر سرکاری تنظیمیں ، روحانی اور مذہبی رہنما، عوامی نمائندے، تعلیمی ادارے اور سبھی شعبوں کی ممتاز شخصیات سوچھ بھارت مشن میں شامل ہو رہی ہیں تاکہ 2؍اکتوبر 2019 ،مہاتما گاندھی کی 150ویں جینتی کے موقع پر ہندوستان کو مکمل طور پر صاف بنایا جا سکے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے پہلے ہی یہ اعلان کیا ہے کہ مہاتما گاندھی کی 150ویں جینتی پر پورے ہندوستان کو صاف بنانا ہے۔مرکزی وزیر نے کہا کہ سوچھ بھارت مشن سرکاری پروگرام نہیں ہے بلکہ یہ عوامی تحریک ہے اور صاف صفائی کے لیے لوگوں کی عادات میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے کیونکہ صرف بیت الخلاؤں کی تعمیر اور کھلے میں قضائے حاجت سے آزاد علاقے کا درجہ حاصل کرنا ہی کافی نہیں ہوگا۔